انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 255 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 255

۲۵۵ آتا جتنا اس وقت آتا ہے جب کوئی اسے گالی دے- مگر یہاں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ محمد)صلیاللہ علیہ وآلہ وسلم( کے نفس کی یہ حالت ہے کہ انہیں جو چاہیں کہہ لیں مگر خدا تعالیٰ کی باتوں کا انکار نہ کریں- اور اس کی شان کے خلاف باتیں نہ کریں- گویا آپ کا غم و حزن محض اللہ کے لئے تھا- اپنی ذات کے لئے نہ تھا- اپنے متعلق اپنی شہادت اب ایک اور شہادت آپ کے تقدس کی پیش کرتا ہوں جو آپ کی اپنی شہادت ہے- عموماً اپنے متعلق اپنی شہادت کو وقعت نہیں دی جاتی لیکن یہ ایسی بے ساختہ شہادت ہے کہ جس کے درست تسلیم کرنے سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا- جب آپ کو پہلے پہل الہام ہوا تو آپ ورقہ بن نوفل کے پاس گئے جو عیسائی تھے- عیسائیوں میں چونکہ الہامی کتاب تھی اور عربوں میں نہ تھی، اس وجہ سے حضرت خدیجہ ؓ آپ کی بیوی ان کے پاس آپ کو لے گئیں تا ان سے اس کے متعلق مشورہ کریں- آپ نے ان سے ذکر کیا کہ مجھے اس طرح الہام ہوا ہے- ورقہ نے کہا تمہاری قوم تمہیں تمہارے وطن سے نکال دے گی- کاش میں اس وقت جواب ہوتا تو تمہاری مدد کرتا- یہ سن کر آپ کے منہ سے بے اختیار نکل گیا- او مخرجی ھم ۵؎ میں ہمیشہ لوگوں کا خیر خواہ رہا ہوں اور ان کی بھلائی کی کوشش کرتا رہا ہوں پھر کس طرح ممکن ہو سکتا ہے کہ یہ مجھے نکال دیں گے- یہ شہادت گو آپ کی اپنی شہادت ہے مگر ہر عقلمند کو ماننا پڑے گا کہ سچی ہے- کیونکہ ایسے موقع پر منہ سے نکلی ہے جب کہ کسی بناوٹ کا شبہ بھی نہیں ہو سکتا تھا- آپ فرماتے ہیں کیا یہ بھی ممکن ہے کہ میرے جیسے خیر خواہ اور ہمدرد کو نکال دیں- وہ لوگ مجھ سے محبت اور پیار کرتے ہیں- مجھے صدوق اور امین قرار دیتے ہیں میری خیر خواہی کے قائل ہیں- پھر کس طرح ممکن ہے کہ نکال دیں- میں نے تو کبھی کسی کو دکھ نہیں دیا، کسی سے کبھی فریب نہیں کیا- کسی کو نقصان نہیں پہنچایا- یہ بھی اس بات کی ایک شہادت ہے کہ آپ کی زندگی مقدس تھی کیونکہ آپ یہ خیال ہی نہیں کر سکتے تھے کہ آپ کی قوم آپ کو نکال دے گی یا یہ کہ قوم کے پاس آپ کو نکالنے کی کوئی وجہ ہو سکتی ہے-