انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 203 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 203

۲۰۳ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اسی طرح اگر کوئی غیر مسلم یہ کہے کہ ساری باتیں تو خدا نے بتائیں- محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے کیا کام کیا- تو کیا یہی نہیں کہو گے کہ بے شک جو کچھ آپ نے دنیا کو بتایا، وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ کو ملا- مگر سوال یہ ہے کہ اور کسی کو کیوں نہ ملا؟ آخر کوئی نیکی اور تقویٰ اور قربانی کا درجہ آپ کو ایسا حاصل تھا جو دوسروں کو حاصل نہ تھا- تب ہی تو خدا تعالیٰ نے آپ پر یہ علوم کھولے پس وہ کام آپ ہی کا کام کہلائے گا- یہی جواب ہم دیں گے کہ بیشک یہ سب کچھ قرآن کریم میں موجود تھا- مگر باوجود اس کے لوگوں کو نظر نہ آتا تھا- اور خدا تعالیٰ نے ان علوم کو کسی پر نہ کھولا مگر آپ پر ان علوم کو کھول دیا- اور ایسے وقت میں کھولا جب کہ دنیا قرآن کریم کی طرف سے رو گردان ہو رہی تھی- پس گو یہ علوم قرآن کریم میں موجود تھے مگر دنیا کی نظر سے چونکہ پوشیدہ تھے- اور خدا تعالیٰ نے ان کے کھولنے کے لئے آپ کو چنا، اس لئے وہ آپ ہی کا کام کہلائیں گے- میں نے آپ کے کاموں کی تعداد پندرہ بتائی ہے- لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ آپ کا کام یہیں تک ختم ہو گیا ہے- آپ کا کام اس سے بہت وسیع ہے اور جو کچھ کہا گیا ہے یہ اصولی ہے- اور اس میں بھی انتخاب سے کام لیا گیا ہے- اگر آپ کے سب کاموں کو تفصیل سے لکھا جائے تو ہزاروں کی تعداد سے بھی بڑھ جائیں گے- اور میرے خیال میں اگر کوئی شخص انہیں کتاب کی صورت میں جمع کر دے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا وہ منشاء پورا ہو سکتا ہے جو آپ نے براہین احمدیہ میں ظاہر فرمایا ہے اور وہ یہ کہ اس کتاب میں اسلام کی تین سو خوبیاں بیان کی جائیں گی- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ وعدہ اپنی مختلف کتابوں کے ذریعہ پورا کر دیا- آپ نے اپنی کتابوں میں تین سو سے بھی زائد خوبیاں بیان فرما دی ہیں- اور میں یہ ثابت کرنے کیلئے تیار ہوں- واخر دعونا ان الحمد للہ رب العلمین- ۱؎ ال عمران : ۱۹۱ تا ۱۹۶ ۲؎ متی باب ۵ آیت ۳۹- برٹش فارن بائبل سوسائٹی لاہور مطبوعہ ۱۹۲۲ء ۳؎ وڈ JohnWood )۱۸۱۱ء-۱۸۷۱ء( ایسٹ انڈیا کمپنی کی بحریات کا رکن- برنز (Burns) کا اسسٹنٹ، افغانستان کے سفر میں وادی کابل کے متعلق رپورٹ تیار کی اور