انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 202 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 202

۲۰۲ ابدی نہیں ہوگی- کیونکہ انسانی فطرت نیک ہے، اس لئے ضروری ہے کہ اسے نیکی کی طرف لے جایا جائے- دوسرے انسان خدا کے قرب کے حصول کے لئے پیدا کیا گیا ہے- اگر وہ دوزخ میں پڑا رہے تو قرب کہاں حاصل کر سکتا ہے- پھر خدا تعالیٰ کی رحمت وسیع ہے- اگر دوزخ کی سزا ہمیشہ کے لئے ہو تو رحمت کس طرح وسیع ہوگی- اس صورت میں تو اس کا غضب بھی ویسا ہی وسیع ہوا- جیسے کہ اس کی رحمت- پھر اگر ہمیشہ کے لئے دوزخ ہو تو انسان جو نیکیاں دنیا میں کرتا ہے، ان کا بدلہ ضائع ہو جائے گا حالانکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے، کسی کی نیکی ضائع نہیں کی جائے گی- پس عذاب دائمی نہیں ہوگا، فلاح دائمی ہوگی- غرض آپ نے دوزخ کے عذاب کے محدود ہونے کو علمی طور پر کھول کر گویا کائنات عالم کی حقیقت کو کھول دیا ہے- ایک طرف انسانی فطرت کی کمزوری کو دیکھ کر جب ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ بچہ پیدا ہوتا ہے تو تربیت کرنے والوں کی تربیت کا اس پر اثر پڑتا ہے- کھانے پینے کا اس پر اثر پڑتا ہے- اردگرد کے حالات کا اثر پڑتا ہے- اور کاموں میں پھنسے ہونے کی وجہ سے عبادت کے لئے قلیل وقت ملتا ہے- دوسری طرف باوجود ان مجبوریوں کے عام طور پر انسان کی قرب الہی کے لئے جدوجہد کو دیکھ کر جس میں ہر مذہب و ملت کے لوگ مشغول ہیں تیسری طرف یہ دیکھ کر کہ بنی نوع انسان تک خدا کے کلام کے پہنچانے میں ہزاروں قسم کی دقتیں ہیں اور بہت ہی کم لوگوں کو ایک وقت میں حقیقی طور پر کلام پہنچتا ہے- چوتھے رحمت الہی کی وسعت کو دیکھ کر، پانچویں انسانی طاقتوں کی حد بندیوں کو دیکھ کر ہر ایک صحیح فطرت جزا و سزا کی نسبت مختلف مذاہب کی پیش کردہ تعلیم سے رکتی تھی- مگر آپ نے ایسی تعلیم پیش کر دی کہ ان سب اعتراضات کا ازالہ ہو گیا- اور اب ہمیں نظر آتا ہے- کہ انسانی زندگی ترقیات لامحدود کی ایک کڑی ہے- اور اس میں غیر محدود ترقیات کی گنجائش ہے- اس کی روکیں عارضی ہیں ورنہ بحیثیت مجموعی وہ آگے کی طرف جا رہی ہے اور جائے گی- خود دوزخ بھی ایک عالم ترقی ہے- اور آلائشوں اور کمزوریوں کو دور کرنے کی جگہ ہے- گویا وہ ایک حمام ہے- جن کو آلائشیں لگی ہوں گی انہیں خدا کہے گا- اس حمام میں پہلے نہاؤ اور پھر میرے پاس آؤ- اب آخر میں میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اگر کوئی کہے کہ یہ سب باتیں تو قرآن کریم میں موجود تھیں- مرزا صاحب نے کیا کیا؟ ان باتوں کے اظہار سے ان کا کام کس طرح ثابت ہوگیا؟