انوارالعلوم (جلد 10) — Page 162
۱۶۲ ہے بلکہ وہ کارخانہ عالم میں ایک مفید اور کار آمد وجود ہیں آپ نے فرمایا کہ-: (الف) ملائکہ کی ضرورت اللہ تعالیٰ کو نہیں ہے مگر ان کا وجود انسانوں کے لئے ضروری ہے جس طرح خدا تعالیٰ بغیر کھانے کے انسان کا پیٹ بھر سکتا ہے لیکن اس نے کھانا بنایا- بغیر سانس کے زندہ رکھ سکتا تھا- مگر اس نے ہوا بنائی- بغیر پانی کے سیر کر سکتا تھا مگر اس نے پانی بنایا- بغیر روشنی کے دکھا سکتا تھا مگر اس نے روشنی بنائی- بغیر ہوا کے سنا سکتا تھا مگر آواز کہ پہنچانے کے لئے اس نے ہوا بنائی- اور اس کے اس کام پر کوئی اعتراض نہیں- اسی طرح اس نے اگر اپنا کلام پہنچانے کے لئے ملائکہ کا وجود بنایا تو حاجت اور ضرورت کا سوال کیوں پیدا ہو گیا؟ باقی ذرائع کے پیدا کرنے سے اگر خدا تعالیٰ کی احتیاج نہیں بلکہ بندہ کی احتیاج ثابت ہوتی ہے تو ملائکہ کے پیدا کرنے سے خدا تعالیٰ کی احتیاج کیونکر ثابت ہوئی؟ ان کی پیدائش بھی مخلوق کی ضرورت کے لئے ہے نہ کہ خدا تعالیٰ کی احتیاج کی وجہ سے- (ب) دوسرا جواب آپ نے یہ دیا کہ انسان کی عملی اور ذہنی ترقی کے لئے ملائکہ کا وجود ضروری ہے- علمی ترقی اس طرح ہوتی ہے کہ جو باتیں مخفی در مخفی رکھی گئی ہیں ان کو انسان دریافت کرتے جاتے ہیں اور ترقی کرتے جاتے ہیں- پس ضروری تھا کہ کارخانہ عالم اس طرح چلایا جاتا کہ نتائج یکدم نہ نکلتے بلکہ مخفی در مخفی اسباب کا نتیجہ ہوتے، تا کہ انسان ان کو دریافت کر کے علوم میں ترقی کرتا جاتا اور دنیا اس کے لئے ایک طے شدہ سفر نہ ہوتی بلکہ ہمیشہ اس کے لئے کام موجود رہتا- اس سلسلہ کی آخری کڑی ملائک ہیں- جن کا کام یہ ہے کہ وہ ان قوانین کو صحیح طور پر چلائیں جن کو خدا تعالیٰ نے سنت اللہ کے نام سے دنیا میں جاری کیا ہے- ان کے وجود کے بغیر بے جان مادہ کا سلسلہ عمل اس خوبی سے چل ہی نہیں سکتا تھا جس طرح کہ وہ ان کی موجودگی میں چل رہا ہے- (۲) دوسری غلطی ملائکہ کے متعلق یہ لگی ہوئی تھی کہ وہ بھی انسانوں کی طرح چل پھر کر اپنے فرائض ادا کرتے ہیں- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے متعلق بتایا کہ وہ تصرف کے ذریعہ سے کام کرتے ہیں نہ کہ خود ہر جگہ جاکر اگر انہیں ہر جگہ جاکر کام کرنا پڑتا تو عزرائیل کے لئے اس قدر آدمیوں کی جان یکدم نکالنی مشکل ہوتی- ہاں جب انہیں کسی مقام پر ظاہر ہونے کا حکم ہوتا ہے تو وہ اس جگہ متمثل ہو جاتے ہیں بغیر اس کے کہ اپنی جگہ سے ہلیں- (۳) تیسری غلطی ملائکہ کے متعلق یہ لگ رہی تھی کہ گویا وہ بھی گناہ کر سکتے ہیں- چنانچہ