انوارالعلوم (جلد 10) — Page 161
۱۶۱ قرار دیتے تھے اور روزمرہ کام آنے والی کتاب نہیں سمجھتے تھے- جس کا نتیجہ یہ ہوا تھا کہ اس کی تلاوت اور اس کے مطالب پر غور کرنے کی طرف سے وہ بالکل بے پرواہ ہو گئے تھے- خوبصورت جز دانوں میں لپیٹ کر قرآن کریم کو رکھ دینا یا خالی لفظ پڑھ لینے کافی سمجھتے تھے کہیں قرآن کریم کا درس نہ ہوتا تھا- حتی کہ اس کا ترجمہ تک نہیں پڑھایا جاتا تھا- ترجمہ کے لئے سارا دارومدار تفسیروں پر تھا- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہی اس زمانہ میں وہ شخص ہوئے ہیں جنہوں نے قرآن کو قرآن کر کے پیش کیا اور توجہ دلائی کہ قرآن کا ترجمہ پڑھنا چاہئے- آپ سے پہلے قرآن کا کام صرف یہ سمجھا جاتا تھا کہ جھوٹی قسمیں کھانے کے لئے استعمال کیا جائے- یا مردوں پر پڑھا جائے- یا اچھا خوبصورت غلاف چڑھا کر طاق میں رکھدیا جائے- کیا یہ عجیب بات نہیں کہ شاعروں نے خدا تعالیٰ کی حمد اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت میں تو بے شمار نظمیں لکھی ہیں- مگر قرآن کریم کی تعریف میں کسی نے بھی کوئی نظم نہیں لکھی- پہلے انسان حضرت مرزا صاحب ہی تھے جنہوں نے قرآن کی تعریف میں نظم لکھی اور فرمایا ؎ جمال وحسن قرآن نور جان ہر مسلماں ہے قمر ہے چاند اوروں کا ہمارا چاند قرآں ہے لوگوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت پڑھنی ہوتی ہے تو وہ انہیں مل جاتی ہے- خدا تعالیٰ کی حمد کے شعر پڑھنے ہوتے ہیں تو وہ انہیں مل جاتے ہیں مگر قرآن کریم کی تعریف میں انہیں نظم نہیں ملتی اور دشمن سے دشمن بھی حضرت مسیح موعودؑ کے اشعار پڑھنے پر مجبور ہوتے ہیں- اور یہ کہتے ہوئے کہ مرزا صاحب خود تو برے تھے مگر یہ شعر انہوں نے بہت اچھے کہے ہیں- آپ کے کلام کو پڑھنے لگ جاتے ہیں اور اس طرح ثابت کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صحیح معنوں میں قرآنکریم کو ثریا سے لائے ہیں- ملائکہ کے متعلق غلط فہمیوں کا ازالہ پانچواں کام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ کیا ہے کہ ملائکہ کے متعلق جو غلط فہمیاں تھیں انہیں آپ نے دور کیا ہے- (۱) بعض لوگ کہتے تھے کہ قوائے انسانی کا نام ملائکہ رکھا گیا ہے- ورنہ خدا تعالیٰ کو ملائکہ کی کیا ضرورت ہے- آپ نے اس شبہ کا بہ زور رد کیا اور بتایا کہ ملائکہ کا وجود وہمی نہیں