اسماء المہدی علیہ السلام — Page 69
اسماء المهدی صفحہ 69 خدائی خطاب میں ایک حقیقت ہوتی ہے اور وہی فخر کے لائق ہے اگر چہ انسانوں کے لئے بادشاہوں اور سلاطین وقت سے بھی خطاب ملتے ہیں مگر وہ صرف ایک لفظی خطاب ہوتے ہیں جو بادشاہوں کی مہربانی اور کرم اور شفقت کی وجہ سے یا اور اسباب سے کسی کو حاصل ہوتے ہیں۔اور بادشاہ اس کے ذمہ دار نہیں ہوتے کہ جو خطاب انہوں نے دیا ہے اس کے مفہوم کے موافق وہ شخص اپنے تئیں ہمیشہ رکھے جس کو ایسا خطاب دیا گیا ہے۔مثلاً کسی بادشاہ نے کسی کو شیر بہادر کا خطاب دیا تو وہ بادشاہ اس بات کا متکفل نہیں ہوسکتا کہ ایسا شخص ہمیشہ اپنی بہادری دکھلاتا رہے گا۔بلکہ ممکن ہے کہ ایسا شخص ضعف قلب کی وجہ سے ایک چوہے کی تیز رفتاری سے بھی کانپ اٹھتا ہو چہ جائیکہ وہ کسی میدان میں شیر کی طرح بہادری دکھلاوے۔لیکن وہ شخص جس کو خدا تعالیٰ سے شیر بہادر کا خطاب ملے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ درحقیقت بہادر ہی ہو۔کیونکہ خدا انسان نہیں ہے کہ جھوٹ بولے یا دھوکہ کھاوے یا کسی پولیٹیکل مصلحت سے ایسا خطاب دیدے جس کی نسبت وہ اپنے دل میں جانتا ہے کہ دراصل وہ شخص اس خطاب کے لائق نہیں ہے۔اس لئے یہ بات محقق امر ہے کہ فخر کے لائق وہی خطاب ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملتا ہے۔“ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 502- تریاق القلوب )