اسماء المہدی علیہ السلام — Page 470
اسماء المهدی صفحہ 470 سے علم نہ ہوا، میں وہی کہتا رہا جو اوائل میں میں نے کہا۔اور جب مجھ کو اس کی طرف سے علم ہوا تو میں نے اس کے مخالف کہا۔میں انسان ہوں۔مجھے عالم الغیب ہونے کا دعویٰ نہیں۔بات یہی ہے جو شخص چاہے قبول کرے یا نہ کرے۔“ صلى الله (روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 154۔حقیقۃ الوحی ) یادر ہے کہ بہت سے لوگ میرے دعوی میں نبی کا نام سن کر دھو کا کھاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ گویا میں نے اس نبوت کا دعوی کیا ہے جو پہلے زمانوں میں براہ راست نبیوں کو ملی ہے۔لیکن وہ اس خیال میں غلطی پر ہیں۔میرا ایسا دعویٰ نہیں ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی مصلحت اور حکمت نے آنحضرت ﷺ کے افاضہ روحانیہ کا کمال ثابت کرنے کے لئے یہ مرتبہ بخشا ہے کہ آپ کے فیض کی برکت سے مجھے نبوت کے مقام تک پہنچایا۔اس لئے میں صرف نبی نہیں کہلا سکتا بلکہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی۔اور میری نبوت آنحضرت ﷺ کی حل ہے نہ کہ اصلی نبوت۔اسی وجہ سے حدیث اور میرے الہام میں جیسا کہ میرا نام نبی رکھا گیا، ایسا ہی میرا نام امتی بھی رکھا ہے تا معلوم ہو کہ ہر ایک کمال مجھ کو آنحضرت ﷺ کی اتباع اور آپ کے ذریعہ سے ملا ہے۔“ صلى الله (روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 154 حاشیہ۔حقیقۃ الوحی)