اسماء المہدی علیہ السلام

by Other Authors

Page 463 of 498

اسماء المہدی علیہ السلام — Page 463

اسماء المهدی صفحہ 463 ہوتی ہے اس پر مہر لگ چکی ہے۔میں کہتا ہوں کہ نہ مِنْ كُلِ الْوُجُوه باب نبوت مسدود ہوا ہے اور نہ ہر ایک طور سے وحی پر مہر لگائی گئی ہے۔بلکہ جزئی طور پر وحی اور نبوت کا اس امت مرحومہ کے لئے ہمیشہ دروازہ کھلا ہے۔مگر اس بات کو بحضور دل یا د رکھنا چاہئے کہ یہ نبوت جس کا ہمیشہ کے لئے سلسلہ جاری رہے گا، نبوت تامہ نہیں ہے۔بلکہ جیسا کہ میں ابھی بیان کر چکا ہوں وہ صرف ایک جزئی نبوت ہے۔جو دوسرے لفظوں میں محد ثیت کے اسم سے موسوم ہے جو انسان کامل کے اقتداء سے ملتی ہے جو مستجمع جمیع کمالات نبوت تامہ ہے یعنی ذات ستودہ صفات حضرت سیدنا و مولانا محمد مصطفیٰ 66 (روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 60 - توضیح مرام) " ہم بار ہا لکھ چکے ہیں کہ حقیقی اور واقعی طور پر تو یا امر ہے کہ ہمارے سیدو مولی آنحضرت ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔اور آنجناب کے بعد مستقل طور پر کوئی نبوت نہیں اور نہ کوئی شریعت ہے۔اور اگر کوئی ایسا دھوٹی کرے تو بلا شبہ وہ بے دین اور مردود ہے۔لیکن خدا تعالیٰ نے ابتدا سے ارادہ کیا تھا کہ آنحضرت ﷺ کے کمالات متعدیہ کے اظہار و اثبات کے لئے کسی شخص کو آنجناب کی پیروی اور متابعت کی وجہ سے وہ مرتبہ کثرت مکالمات اور مخاطبات الہیہ بخشے کہ جو اس کے وجود میں عکسی طور پر نبوت کا رنگ پیدا کر دے۔سو اس طور پر خدا نے میرا نام نبی رکھا۔یعنی نبوت محمد یہ میرے آئینہ نفس میں منعکس ہو گئی اور علمی طور پر نہ اصلی طور پر مجھے یہ نام دیا گیا