اسماء المہدی علیہ السلام — Page 385
اسماء المهدی وو صفحه 385 اور دوسری قسم ظلم کی جو خالق کی نسبت ہے وہ اس زمانہ کے عیسائیوں کا عقیدہ ہے جو خالق کی نسبت کمال غلو تک پہنچ گیا ہے۔اس حق کے قائم کرنے کے لئے اور توحید کی عظمت دلوں میں بٹھانے کے لئے ایک بزرگ نبی ملک عرب میں گزرا ہے جس کا نام محمد اور احمد تھا۔خدا کے اس پر بے شمار سلام ہوں۔شریعت دو حصوں پر منقسم تھی۔دوسرا حصّہ جو بڑا حصّہ ہے یعنی لَا إِله إِلا اللہ جو خدا کی عظمت اور توحید کا سر چشمہ ہے اس پر حضرت محمد مصطفی اصلی اللہ علیہ وسلم نے زور دیا۔کیونکہ وہ زمانہ اسی قسم کے زور کو چاہتا تھا۔پھر بعد اس کے ہمارا زمانہ آیا جس میں اب ہم ہیں۔اس زمانہ میں یہ دونوں قسم کی خرابیاں کمال درجہ تک پہنچ گئی تھیں۔یعنی حقوق عباد کا تلف کرنا اور بے گناہ بندوں کا خون کرنا مسلمانوں کے عقیدہ میں داخل ہو گیا تھا اور پھر دوسری طرف حقوق خالق کا تلف کرنا بھی کمال کو پہنچ گیا تھا اور عیسائی عقیدہ میں یہ داخل ہو گیا تھا کہ وہ خدا جس کی انسانوں اور فرشتوں کو پرستش کرنی چاہئے وہ بیچ ہی ہے۔اور اس قدر غلو ہو گیا کہ اگر چہ ان کے نزدیک عقیدہ کے رو سے تین اقنوم ہیں۔لیکن عملی طور پر دعا اور عبادت میں صرف ایک ہی قرار دیا گیا ہے یعنی مسیح۔یہ دونوں پہلوا تلاف حقوق کے یعنی حق العباد اور حق رب العباد اس قدر کمال کو پہنچ گئے تھے کہ اب یہ تمیز کر نا مشکل ہے کہ ان دونوں میں کونسا پہلو اپنے غلو میں انتہائی درجہ تک جا پہنچا ہے۔سواس وقت خدا نے جیسا کہ حقوق العباد کے تلف کے لحاظ سے میرا نام سیح