اسماء المہدی علیہ السلام — Page 38
اسماء المهدی مشابہ ہیں اگر تو بہ نہ کریں۔صفحہ 38 غرض اس وحی الہی میں یہ جتلا نا منظور ہے کہ یہ زمانہ جامع کمالات اخیار اور کمالات اشرار ہے۔اور اگر خدا تعالیٰ رحم نہ کرے تو اس زمانہ کے شریر تمام گزشتہ عذابوں کے مستحق ہیں۔یعنی اس زمانہ میں تمام گزشتہ عذاب جمع ہو سکتے ہیں۔۔۔اور جو کچھ خدا تعالیٰ نے گزشتہ نبیوں کے ساتھ رنگارنگ طریقوں میں نصرت اور تائید کے معاملات کئے ہیں۔ان معاملات کی نظیر بھی میرے ساتھ ظاہر کی گئی ہے اور کی جائے گی۔66 ( براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 117-116) ان اسماء و خطابات کی تشریح کے مطالعہ سے حضور علیہ السلام کی حیات طیبہ ایک نئے رنگ میں ہمارے سامنے آتی ہے۔انہی صفات کے ذریعہ آپ کے عالی مقام و بلند مرتبہ ، فرائض و ذمہ داریوں اور ایسے ہی اس زمانہ کے سیاسی وسماجی، معاشرتی و تمدنی اور جسمانی و روحانی حالات کا اظہار کیا گیا ہے۔نیز دوستوں اور دشمنوں کا انجام بتایا گیا ہے۔آپ پر کئے جانے والے اعتراضات والزامات کی پیشگوئی اور پھر انہی ناموں کے ذریعہ ان الزامات کی تردید یا بالفاظ دیگر ہرقسم کے اعتراضوں اور الزاموں کی تردید یا جواب صرف نام کے ذریعہ دیا گیا ہے۔نیز اس کے مطالعہ سے کثرت اسماء کا فلسفہ بھی معلوم ہوگا اور معترضین کے اس اعتراض کا جواب بھی کہ کیا ما نہیں، کبھی مرزا صاحب آدم بنتے ہیں، کبھی موسیٰ، کبھی یعقوب، کبھی مسیح و مہدی، کبھی مریم، کبھی نبی، کبھی مجد دو محدث ، کبھی ظلی و بروزی نبی و غیره؟