اسماء المہدی علیہ السلام — Page 377
اسماء المهدی صفحہ 377 محمد مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللهِ وَالَّذِيْنَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ۔اس وحی الہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی“۔(روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 207۔ایک غلطی کا ازالہ ) نبوت کی تمام کھڑکیاں بند کی گئیں مگر ایک کھڑ کی سیرۃ صدیقی کی کھلی ہے یعنی فنافی الرسول کی۔پس جو شخص اس کھڑ کی کی راہ سے خدا کے پاس آتا ہے اس پر ظلمی طور پر وہی نبوت کی چادر پہنائی جاتی ہے جو نبوت محمدی کی چادر ہے اس لئے اس کا نبی ہونا غیرت کی جگہ نہیں کیونکہ وہ اپنی ذات سے نہیں بلکہ اپنے نبی کے چشمہ سے لیتا ہے اور نہ اپنے لئے بلکہ اُس کے جلال کے لئے۔اسی لئے اس کا نام آسمان پر محمد اور احمد ہے۔اس کے یہ معنی ہیں کہ محمد کی نبوت آخر محمد گو ہی ملی۔گو بروزی طور پر مگر نہ کسی اور کو۔غرض میری نبوت اور رسالت باعتبار محمد اور احمد ہونے کے ہے۔نہ میرے نفس کے رُو سے۔اور یہ نام بحیثیت فنافی الرسول مجھے ملا ہے“۔(روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 208۔ایک غلطی کا ازالہ ) (مزید تفصیل کے لئے دیکھئے ایک غلطی کا ازالہ) بروزی رنگ میں تمام کمالات محمد سمی مع نبوت محمدیہ کے میرے