اسماء المہدی علیہ السلام — Page 36
اسماء المهدی صفحہ 36 میں خاوند، داماد، پھوپھا، خالو، بہنوئی وغیرہ۔اولاد ہونے کی صورت میں باپ، دادا، نانا،خسر وغیرہ۔الغرض ایک ہی شخص کے مختلف نسبتوں سے اس کے مختلف درجات و مقامات و خطاب و القاب ہو سکتے ہیں۔اور بسا اوقات اسے مختلف ہی نہیں بلکہ متضاد نام بھی دئے جاتے ہیں مثلاً وہ باپ بھی ہے اور بیٹا بھی۔دادا بھی ہے اور پوتا بھی۔نانا بھی ہے اور کسی کا خود نواسہ بھی۔ماموں بھی ہے اور بھانجا بھی۔چا بھی ہے اور کسی کا بھتیجا بھی وغیرہ ڈلک۔اور ظاہر ہے کہ بسا اوقات ایک آدمی کو یہ سب مقامات حاصل ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ کاروبار اور پیشوں کے لحاظ سے الگ نام ہیں۔لیکن اس پر کوئی عقلمند اعتراض نہیں کرتا۔بلکہ یہ چیز اس کے بڑے خاندان، لمبی عمر اور وسیع برادری پر دلالت کرتی ہے۔یہی حکمت حضرت مہدی علیہ السلام کے ناموں کی ہے۔آپ قرآنی پیشگوئی وَإِذَا الرُّسُلُ أُقْسَتْ (سورة المرسلات (12) کے مصداق اور موعود اقوام عالم ہیں۔اس لئے آپ کو بہت سے ناموں سے پکارا گیا ہے۔اور ان ناموں میں بہت سے حقائق بیان کئے گئے ہیں جو آپ کی صداقت کا ثبوت ہیں۔كتابُ الصِّرَاطُ السَّوِي فِي أَحْوَالِ الْمَهْدِي “ میں لکھا ہے کہ مہدی کے بے شمار نام ہیں۔وہ لکھتے ہیں : بوجہ مظہر اوصاف الہی وخلیفہ ہونے کے وَجْهُ الله عَيْنُ الله يَدُ الله، يَمِيْنُ الله قوة الله حبيب اللہ کے القاب سے پکارے جاتے ہیں۔(الصراط السوى فى احوال المهدى صفحه 443)