اسماء المہدی علیہ السلام — Page 310
اسماء المهدی صفحہ 310 پس جب خدا تعالی کو اپنا کوئی بند و عزیز اور پیارا ہو تو خدا تعالی کو اپنے اس بندہ کے ساتھ اس طرح ہمکلام ہونا چاہئے جس طرح دو حقیقی دوست آپس میں گفتگو کرتے ہیں اور اس طرح کی گفتگو جو علوم غیبیہ اور معارف صحیحہ پر مشتمل ہو اس کے عزیز ہونے کا ثبوت ہوتا ہے۔چنانچہ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: وو اس میں کچھ شک نہیں کہ اگر اس رنگ میں الہام ہو کہ بندہ سوال کرتا ہے اور خدا اس کا جواب دیتا ہے۔اسی طرح ایک ترتیب کے ساتھ سوال و جواب ہو اور الہی شوکت اور نور الہام میں پایا جاوے اور علوم غیب یا معارف صحیحہ پر مشتمل ہو تو وہ خدا کا الہام ہے۔خدا کے الہام میں یہ ضروری ہے کہ جس طرح ایک دوست دوسرے دوست سے مل کر باہم ہمکلام ہوتا ہے، اسی طرح رب اور اس کے بندہ میں ہم کلامی واقع ہو۔اور جب یہ کسی امر میں سوال کرے تو اس کے جواب میں ایک کلام لذیذ فصیح خدائے تعالیٰ کی طرف سے سنے جس میں اپنے نفس اور فکر اور غور کا کچھ بھی دخل نہ ہو۔اور وہ مکالمہ اور مخاطبہ اس کے لئے موہبت ہو جائے۔تو وہ خدا کا کلام ہے اور ایسا بندہ خدا کی جناب میں عزیز ہے“۔(روحانی خزائن جلد 10 ، صفحہ 440-439۔اسلامی اصول کی فلاسفی )