اسماء المہدی علیہ السلام — Page 308
اسماء المهدی صفحہ 308 عزیز "يَا أَيُّهَا العَزِيْزُ مَسَّنَا وَ اَهْلَنَا الضُّرُّ وَجِئْنَا بِبِضَاعَةِ مُزْجَةٍ فَأَوْفِ لَنَا الْكَيْلَ وَتَصَدَّقْ عَلَيْنَا إِنَّ اللَّهَ يَجْزِى الْمُتَصَدِّقِيْن ( تذکر طبع چہارم صفحه 570) ترجمہ: اے عزیز ہم اور ہمارے اہل وعیال تکلیف میں ہیں۔اور ہم تھوڑی سی پونچھی لائے ہیں۔پس ہمیں پورا ناپ تول دے اور ہم پر صدقہ کر۔اللہ تعالیٰ صدقہ کرنے والوں کو جزائے خیر دیتا ہے۔اس الہام میں اللہ تعالیٰ نے انہیں الفاظ میں حضور علیہ السلام سے خطاب فرمایا ہے جن میں حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے یوسف سے خطا۔کیا تھا۔اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو ایسے وقت میں اس ملک کا مہتم خوراک بنایا تھا جبکہ ملک قحط کی مصیبت میں مبتلا تھا۔ادھر اللہ تعالیٰ نے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایسے وقت میں مبعوث فرما کر دنیا کی روحانی غذا کا مہتم بنایا جبکہ دنیا روحانی لحاظ سے انتہائی مفلس اور نادار ہو چکی تھی۔چنانچہ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: خدا تعالیٰ مجھے یوسف قرار دے کر یہ اشارہ فرماتا ہے کہ اس جگہ بھی میں ایسا ہی کروں گا۔اسلام اور غیر اسلام میں روحانی غذا کا قحط ڈال دوں گا۔اور روحانی زندگی کے ڈھونڈنے والے بجز اس سلسلہ کے کسی جگہ آرام نہ