اسماء المہدی علیہ السلام — Page 269
اسماء المهدی صفحہ 269 اب خدا اپنی جلالی روشنی میرے ذریعہ سے ظاہر کرے گا خدا تعالیٰ نے اس وحی الہی میں جو لکھی جاتی ہے میرے ہاتھ پر دین اسلام کے پھیلانے کی خوشخبری دی۔جیسا کہ اس نے فرمایا: يَا قَمَرُ يَا شَمْسُ أَنْتَ مِنّى وَ اَنَا مِنْكَ۔یعنی اے چاند اور اے سورج ! تُو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔اس وحی الہی میں ایک دفعہ خدا تعالیٰ نے مجھے چاند قرار دیا اور اپنا نام سورج رکھا۔اس سے یہ مطلب ہے کہ جس طرح چاند کا نُور سورج سے فیضیاب اور مستفاد ہوتا ہے اسی طرح میرانور خدا تعالیٰ سے فیضیاب اور مستفاد ہے۔پھر دوسری دفعہ خدا تعالیٰ نے اپنا نام چاند رکھا اور مجھے سورج کر کے پکارا۔اس سے یہ مطلب ہے کہ وہ اپنی جلالی روشنی میرے ذریعہ سے ظاہر کرے گا۔وہ پوشیدہ تھا، اب میرے ہاتھ سے ظاہر ہو جائے گا اور اس کی چمک سے دنیا بے خبر تھی مگر اب میرے ذریعہ سے اس کی جلالی چمک دنیا کی ہر ایک طرف پھیل جائے گی۔اور جس طرح تم بجلی کو دیکھتے ہو کہ ایک طرف سے روشن ہو کر ایک دم میں تمام سطح آسمان کی روشن کر دیتی ہے، اسی طرح اس زمانہ میں بھی ہوگا روحانی خزائن جلد 20، صفحہ 397 - تجلیات الہیہ )