اسماء المہدی علیہ السلام — Page 225
اسماء المهدی صفحه 225 انہیں کاموں کی بجا آوری کا حکم ہوگا جو سہل ہیں اور آسانی سے ہو سکتے ہیں۔غرض یہ مسیح موعود کے حق میں پیشگوئی ہے کہ وہ ایسے وقت میں آئے گا جبکہ مغربی ممالک کے لوگ نہایت تاریکی میں پڑے ہوں گے۔اور آفتاب صداقت ان کے سامنے سے بالکل ڈوب جائے گا اور ایک گندے اور بد بودار چشمہ میں ڈوبے گا یعنی بجائے سچائی کے، بد بودار عقائد اور اعمال ان میں پھیلے ہوئے ہوں گے۔اور وہی ان کا پانی ہوگا جس کو وہ پیتے ہوں گے۔اور روشنی کا نام و نشان نہ ہوگا۔تاریکی میں پڑے ہوں گے اور ظاہر ہے کہ یہی حالت عیسائی مذہب کی آجکل ہے جیسا کہ قرآن شریف نے ظاہر فرمایا ہے۔اور عیسائیت کا بھاری مرکز ممالک مغربیہ ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ثُمَّ أَتْبَعَ سَبَبًا حَتَّى إِذَا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَطْلُعُ عَلَى قَوْمٍ لَمْ نَجْعَلْ لَهُمْ مِنْ دُونِهَا سِتّرًا كَذَلِكَ وَقَدْ أَحَطْنَا بِمَا لَدَيْهِ خُبْرًا۔یعنی پھر ذوالقرنين جو مسیح موعود ہے جس کو ہر ایک سامان عطا کیا جائے گا۔ایک اور سامان کے پیچھے پڑے گا یعنی ممالک شرقیہ کے لوگوں کی حالت پر نظر ڈالے گا اور وہ جگہ جس سے سچائی کا آفتاب نکلتا ہے، اس کو ایسا پائے گا کہ ایک ایسی نادان قوم پر آفتاب نکلا ہے جن کے پاس دھوپ سے بچنے کے لئے کوئی بھی سامان نہیں۔یعنی وہ لوگ ظاہر پرستی اور افراط کی دھوپ سے جلتے