اسماء المہدی علیہ السلام — Page 224
اسماء المهدی صفحہ 224 تَتَّخِذَ فِيْهِمْ حُسْنًا۔قَالَ أَمَّا مَنْ ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُهُ ثُمَّ يُرَدُّ إِلَى رَبِّهِ فَيُعَذِّبُهُ عَذَابًا نُكْرًا - وَأَمَّا مَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهُ جَزَاء الْحُسْنَى وَسَنَقُولُ لَهُ مِنْ أَمْرِنَا يُسْرًا یعنی جب ذوالقرنين کو جو مسیح موعود ہے۔ہر ایک طرح کے سامان دیئے جائیں گے۔پس وہ ایک سامان کے پیچھے پڑے گا یعنی وہ مغربی ممالک کی اصلاح کے لئے کمر باندھے گا اور وہ دیکھے گا کہ آفتاب صداقت اور حقانیت ایک کیچڑ کے چشمہ میں غروب ہو گیا اور اس غلیظ چشمہ اور تاریکی کے پاس ایک قوم کو پائے گا جو مغربی قوم کہلائے گی۔یعنی مغربی ممالک میں عیسائیت کے مذہب والوں کو نہایت تاریکی میں مشاہدہ کرے گا۔نہ ان کے مقابل پر آفتاب ہو گا جس سے وہ روشنی پاسکیں اور نہ ان کے پاس پانی صاف ہوگا جس کو وہ پیویں یعنی ان کی علمی و عملی حالت نہایت خراب ہوگی۔اور وہ روحانی روشنی اور روحانی پانی سے بے نصیب ہوں گے۔تب ہم ذوالقرنین یعنی مسیح موعود کو کہیں گے کہ تیرے اختیار میں ہے چاہے تو ان کو عذاب دے یعنی عذاب نازل ہونے کے لئے بددعا کرے (جیسا کہ احادیث صحیحہ میں مروی ہے ) یا ان کے ساتھ حسن سلوک کا شیوہ اختیار کرے۔تب ذوالقرنین یعنی مسیح موعود جواب دے گا کہ ہم اسی کو سز ادلا نا چاہتے ہیں جو ظالم ہو۔وہ دنیا میں بھی ہماری بددعا سے سزا یاب ہوگا اور پھر آخرت میں سخت عذاب دیکھے گا۔لیکن جو شخص سچائی سے منہ نہیں پھیرے گا اور نیک عمل کرے گا، اس کو نیک بدلہ دیا جائے گا اور اس کو