اسماء المہدی علیہ السلام — Page 222
اسماء المهدی صفحه 222 سے جیسا کہ میں نے دو ہجری صدیوں کو پالیا ہے۔ایسا ہی دو عیسائی صدیوں کو بھی پالیا ہے اور ایسا ہی دو ہندی صدیوں کو بھی جن کا سن بکرماجیت سے شروع ہوتا ہے۔اور میں نے جہاں تک ممکن تھا قدیم زمانہ کے تمام ممالک شرقی اور غربی کی مقرر شدہ صدیوں کا ملاحظہ کیا ہے۔کوئی قوم ایسی نہیں جس کی مقرر کردہ صدیوں میں سے دوصد ئیں میں نے نہ پائی ہوں۔اور بعض احادیث میں آچکا ہے کہ آنے والے مسیح کی ایک یہ بھی علامت ہے کہ وہ ذوالقرنین ہوگا۔غرض بموجب نص" وحی الہی کے میں ذوالقرنین ہوں۔اور جو کچھ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف کی ان آیتوں کی نسبت جو سورۃ کہف میں ذوالقرنین کے قصہ کے بارے میں ہیں، میرے پر پیشگوئی کے رنگ میں معنے کھولے ہیں، میں ذیل میں ان کو بیان کرتا ہوں۔مگر یادر ہے کہ پہلے معنوں سے انکار نہیں ہے۔وہ گزشتہ سے متعلق ہیں اور یہ آئندہ کے متعلق۔اور قرآن شریف صرف قصہ گوئی طرح نہیں ہے۔بلکہ اس کے ہر ایک قصہ کے نیچے ایک پیشگوئی ہے۔اور ذوالقرنین کا قصہ مسیح موعود کے زمانہ کے لئے ایک پیشگوئی اپنے اندر رکھتا ہے۔“ (روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 119-118) (چنانچہ اللہ تعالیٰ نے۔ناقل ) فرمايا إِنَّا مَكَّنَّا لَهُ فِي الْأَرْضِ وَاتَّيْنَهُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ سَبَبًا۔یعنی ہم اس کو یعنی مسیح موعود کو جو ذوالقرنین بھی