اسماء المہدی علیہ السلام — Page 171
اسماء المهدی صفحه 171 وہ یہود ہوں جنہوں نے حضرت مسیح کو صلیب پر چڑھایا یا ابو جہل ہو کی مثالیں اس وقت موجود ہیں۔“ (روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 118-117۔براہین احمدیہ پنجم ) جَرِيُّ الله فِي حُلل الانبیاء۔جری اللہ نبیوں کے حلوں میں۔اس فقرہ الہامی کے یہ معنے ہیں کہ منصب ارشاد و ہدایت اور مور د وحی الہی ہونے کا دراصل حلہ انبیاء ہے۔اور ان کے غیر کو بطور مستعار ملتا ہے۔اور یہ حلہ انبیاء امت محمدیہ کے بعض افراد کو بغرض تکمیل ناقصین عطا ہوتا الله ہے۔اور اسی کی طرف اشارہ ہے جو آنحضرت ﷺ نے فرمایا عُلَمَاءُ أُمَّتِي كَانْبِيَاءِ بَنِي إِسْرَائِيْل“ (روحانی خزائن جلد اول صفحه 601 حاشیہ نمبر 3۔براہین احمدیہ ہر چہار حصص ) اسی طرح حضور نے فرمایا:۔رُوحِي بِرُوْحِ الْأَنْبِيَاءِ مُضَمَّخٌ جَادَتْ عَلَيَّ الْجُوْدُ مِنْ فَيُضَانِهِمْ (روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 128 نورالحق حصہ اوّل) یعنی میری روح انبیاء کی روح سے معطر کی گئی ہے اور ان کے فیضان کا ایک بڑا مینہ میرے پر برسا۔زنده شـ آمدنم سولے نہـــان بـــه پـیــرهـن (روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 478۔نزول المسیح) ہر نبی میرے آنے سے زندہ ہو گیا اور ہر رسول میرے پیراهن میں پوشیدہ ہے۔