اسماء المہدی علیہ السلام — Page 158
اسماء المهدی صفحہ 158 کبھی عذاب کے رنگ میں ظاہر ہوتے ہیں اور وہ لوگ انہیں نشانوں کی وجہ سے خدا کی طرف سے بشیر اور نذیر کہلاتے ہیں۔مگر رحمت کے نشانوں سے وہ مومن حصہ لیتے ہیں جو خدا کے حکموں کے مقابل پر تکبر نہیں کرتے اور خدا کے فرستادہ لوگوں کو تحقیر اور تو ہین سے نہیں دیکھتے اور اپنی فراست۔اداد سے ان کو پہچان لیتے ہیں اور تقویٰ کی راہ کو محکم پکڑ کر بہت ضد نہیں کرتے۔اور نہ دنیا داری کے تکبر اور جھوٹی وجاہتوں کی وجہ سے کنارہ کش رہتے ہیں بلکہ جب دیکھتے ہیں کہ سنتِ انبیاء کے موافق ایک شخص اپنے وقت پر اٹھا ہے جو خدا کی طرف بلاتا ہے اور اس کی باتیں ایسی ہیں کہ ان کی صحت ماننے کے لئے ایک راہ موجود ہے اور اس میں نصرت الہی اور تقویٰ اور دیانت کے نشان پائے جاتے ہیں اور سننِ انبیاء علیہم السلام کے پیمانہ کے رُو سے اس کے قول یا فعل پر کوئی اعتراض نہیں آتا تو ایسے انسان کو قبول کر لیتے ہیں بلکہ بعض سعید ایسے بھی ہیں کہ چہرہ دیکھ کر پہچان جاتے ہیں کہ یہ کذاب اور مکار کا چہرہ نہیں۔پس ایسے لوگوں کے لئے رحمت کے نشان ظاہر ہوتے ہیں۔" (روحانی خزائن جلد 20 ،صفحہ 238-237 لیکچر سیالکوٹ) چند تبشیری پیشگوئیاں خدا تیرے نام کو اس روز تک جو دنیا منقطع ہو جائے عزت کے ساتھ قائم رکھے گا۔اور تیری دعوت کو دنیا کے کناروں تک پہنچا دے گا۔میں