اسماء المہدی علیہ السلام — Page 149
اسماء المهدی صفحہ 149 اولو العزم فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُولُو العَزْمِ پس صبر کر جیسا کہ اولوالعزم نبیوں نے صبر کیا۔“ ( تذکر طبع چہارم صفحہ 546) عزم سے مراد یہ ہے کہ کسی حالت میں نہ تھکنا اور نہ نا امید ہونا اور نہ ارادہ میں سست ہو جانا۔بسا اوقات نبیوں اور مرسلوں اور محدثوں کو جو امام الزمان ہوتے ہیں ایسے ابتلا پیش آجاتے ہیں کہ وہ بظاہر ایسے مصائب میں پھنس جاتے ہیں کہ گویا خدا تعالیٰ نے ان کو چھوڑ دیا ہے۔اور۔ان کے ہلاک کرنے کا ارادہ فرمایا ہے۔بسا اوقات ان کی بعض پیشگوئیاں ابتلا کے رنگ میں ظاہر ہوتی ہیں اور عوام پر ان کا صدق نہیں کھلتا۔اور بسا اوقات ان کے مقصود کے حصول میں بہت کچھ توقف پڑ جاتی ہے۔اور بسا اوقات وہ دنیا میں متروک اور مخذول اور ملعون اور مردود کی طرح ہوتے ہیں۔اور ہر ایک شخص جو ان کو گالی دیتا ہے تو خیال کرتا ہے کہ گویا بڑا ثواب کا کام کر رہا ہوں۔اور ہر ایک ان سے نفرت کرتا ہے اور کراہت کی نظر سے دیکھتا ہے اور نہیں چاہتا کہ سلام کا بھی جواب دے۔لیکن ایسے وقتوں میں ان کا عزم آزمایا جاتا ہے۔وہ ہرگز ان آزمائشوں سے بے دل نہیں ہوتے اور نہ اپنے کام میں سست ہوتے ہیں