اسماء المہدی علیہ السلام

by Other Authors

Page 103 of 498

اسماء المہدی علیہ السلام — Page 103

اسماء المهدی صفحہ 103 سوخدا نے ان دو ناموں کی اس طرح پر تقسیم کی کہ اول آنحضرت نے کی مکہ کی زندگی میں اسم احمد کا ظہور تھا اور ہر طرح سے صبر اور شکیبائی کی تعلیم تھی اور پھر مدینہ کی زندگی میں اسم محمد کا ظہور ہوا۔اور مخالفوں کی سرکوبی خدا کی حکمت اور مصلحت نے ضروری سمجھی۔لیکن یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ آخری زمانہ میں پھر اسم احمد ظہور کرے گا اور ایسا شخص ظاہر ہوگا جس کے ذریعہ سے احمدی صفات یعنی جمالی صفات ظہور میں آئیں گی۔اور تمام لڑائیوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔پس اسی وجہ سے مناسب معلوم ہوا کہ اس فرقہ کا نام فرقہ احمد یہ رکھا جائے تا اس نام کو سنتے ہی ہر ایک شخص سمجھ لے کہ یہ فرقہ دنیا میں آشتی اور صلح پھیلانے آیا ہے۔اور جنگ اور لڑائی سے اس فرقہ کو کچھ سروکار نہیں۔"۔”سواے دوستو ! آپ لوگوں کو یہ نام مبارک ہو۔۔۔۔خدا اس نام میں برکت ڈالے۔خدا ایسا کرے کہ تمام روئے زمین کے مسلمان اسی مبارک فرقہ میں داخل ہو جائیں تا انسانی خونریزیوں کا زہر بکلی ان کے دلوں سے نکل جائے اور وہ خدا کے ہو جائیں اور خدا ان کا ہو جائے۔66 اے قادر وکریم تو ایسا ہی کر۔“ (روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 528-527۔تریاق القلوب )