حضرت اَسماء بنت حضرت ابوبکر صدیقؓ — Page 14
حضرت اسماء 14 ہے اسے پانی سے ٹھنڈا کر و۔حضور اقدس ﷺ کا ایک بجبہ (لمباکوٹ ) حضرت عائشہ صدیقہ کے پاس تھا جب ان کی وفات کا وقت آیا تو انہوں نے یہ مبارک جبہ حضرت اسماء کو دے دیا۔انہوں نے اسے سر آنکھوں پر رکھا اور جب کوئی بیمار ہو جاتا تو اس بجبہ کو دھو کر اس کا پانی مریض کو پلا دیتیں اور اس کی برکت سے بیمار کو شفاء ہو جاتی۔حضرت اسماء کو اللہ تعالیٰ نے پانچ بیٹے اور تین بیٹیوں سے نوازا۔جن کے نام عبداللہ ، عروہ ، منذ ر، عاصم اور بیٹیوں کے نام ام الحسن اور عائشہ تھے۔ان بچوں میں سے حضرت عبداللہ بن زبیر اور عروہ بن زبیر نے تاریخ اسلام میں بڑا مقام پیدا کیا۔(14) آپ نے سوسال کی عمر میں وفات پائی، مہاجرین و مہاجرات میں سے سب سے آخر میں ان کی وفات ہوئی۔حضرت اسماء بنت ابو بکر نے اپنی طویل زندگی میں بے شمار نشیب و فراز دیکھے۔وہ تاریخ اسلام کی چند محدود ہستیوں میں سے ہیں جنہوں نے جاہلیت کا دور دیکھا۔پورا دور رسالت اور پورا خلافت راشدہ بھی دیکھا۔اپنے عظیم بیٹے کا دور عروج بھی دیکھا۔اور اُس کی المناک شہادت کا منظر بھی دیکھا۔اُن پر بار ہا مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹے لیکن انہوں نے ہر موقع پر