حضرت اَسماء بنت حضرت ابوبکر صدیقؓ — Page 11
حضرت اسماء 11 سلوک کرو۔‘ (9) چنانچہ اجازت ملنے پر انہیں اپنے گھر میں ٹھہرایا اور تھے قبول کر لئے۔حضرت اسماء بے حد فہم و فراست کی مالک تھیں۔ہجرت مدینہ کے موقع پر جب حضرت ابو بکر صدیق کی ہجرت کا علم اُن کے نابینا والد ابو قحافہ کو ہوا۔تو حضرت اسماء سے مخاطب ہو کر بولے ”بیٹی ! ابوبکر نے تمہیں دوہری مصیبت میں ڈالا ہے خود بھی چلا گیا اور سارا مال بھی ساتھ لے گیا۔" حضرت ابو بکر صدیق واقعی ہی گھر میں رکھا ہوا سارا روپیہ ساتھ لے گئے تھے لیکن حضرت اسماء نے بوڑھے اور نا بینا دادا کا دل توڑنا مناسب نہ سمجھا اور جواب دیا :۔نہیں دادا جان انہوں نے ہمارے لئے خیر کثیر چھوڑی ہے 66 اور پھر اُن کو مطمئن کرنے کے لئے ایک کپڑے میں کچھ پتھر ڈالے اور اُسے اُسی جگہ پر رکھ دیا جہاں حضرت ابوبکر صدیق اپنا مال رکھا کرتے تھے اور اس کے بعد وہ ابوقحافہ کا ہاتھ پکڑ کر ادھر لے گئیں اور کہا کہ آپ ہاتھ لگا کر دیکھ لیں ، یہ کیا رکھا ہے۔ابو قحافہ نے پوٹلی پر ہاتھ رکھ کر اطمینان کر لیا اور کہا کہ ابوبکر نے اچھا کیا جو تم لوگوں کے لئے رقم چھوڑ گئے۔“ (10) حضرت اسماء نے بے حد عبادت گزار اور عابدہ تھیں۔کثرت عبادت کی وجہ سے آپ بہت نیک مشہور ہوگئی تھیں اور اکثر لوگ آپ کے