حضرت اَسماء بنت حضرت ابوبکر صدیقؓ

by Other Authors

Page 10 of 20

حضرت اَسماء بنت حضرت ابوبکر صدیقؓ — Page 10

حضرت اسماء 10 رہتیں اور پھر وہ مستحقین میں خرچ کر دیتیں اور حضرت اسماء کے ہاتھ میں کوئی چیز بھی رکتی نہ تھی۔(7) حضرت اسماء نے اپنی سادہ وضع قطع آخری دم تک برقرار رکھی۔ان کی زندگی کے آخری دور میں اُن کے بیٹے منذر عراق کی فتح کے بعد لڑائی سے لوٹے تو مال غنیمت کے حصے میں کچھ قیمتی زنانہ کپڑے بھی تھے۔انہیں لے کر اپنی والدہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔حضرت اسماء نے یہ کپڑے وصول کرنے سے انکار کر دیا اور فرمایا ”بیٹا مجھے تو موٹا کپڑا پسند ہے۔چنانچہ منذر ان کے لئے موٹے کپڑے لائے جو انہوں نے خوشی سے قبول کر لئے۔(8) حضرت اسماء دین کے معاملے میں بہت زیادہ جوش رکھتی تھیں۔ان کی والدہ قبیلہ نے اسلام قبول نہیں کیا تھا اور اسی وجہ سے حضرت ابو بکر نے انہیں ہجرت سے پہلے طلاق دے دی تھی۔آپ اپنی والدہ سے ملنا جلنا پسند نہیں کرتی تھیں۔ایک دفعہ ان کے لئے کچھ تھے لے کر ملنے کے لئے آئیں۔حضرت اسمانہ نے پسند نہ کیا کہ وہ اپنی مشرک ماں سے تھے قبول کریں یا انہیں اپنے گھر میں ٹھہرائیں۔حضرت اسماء نے آنحضرت مع سے عرض کیا۔"یا رسول اللہ ! میری والدہ میرے گھر آتی ہے کیا میں اس کے ساتھ اچھا سلوک کروں؟ فرمایا۔”ہاں اپنی والدہ کے ساتھ نیک