حضرت نعمت اللہ ولیؒ اور اُن کا اصلی قصیدہ — Page 8
۔۔۔قصیت کے الہامی ہونے پر نا قابل تردید آسمانی نشہادت متعدد اندرونی اور خارجی شواہد اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ حضرت نعمت اللہ ولی کا یہ قصیدہ ایک الہامی قصیدہ ہے۔کیونکہ اس میں ظہور مہدی کے لئے جو زمانہ بتایا گیا ہے وہ حدیث نبوی اور صلحائے امات کی پیش گوئیوں کے بالکل مطابق ہے جیسا کہ حدیث میں ہے۔الأياتُ بَعد المائتين " (مشکواۃ باب اشراط الساعتہ مشہور حنفی و محدث حضرت ملا علی قاری " فرماتے ہیں: " وَيَحْتَمِلُ أَن تَكُونَ اللام بَعْدَ الْمِائَتَيْنِ بَعْدَ الله وَهُوَ وَقْتُ ظهور المهدي " الاَنـ د مرقاة شرح مشکواة برحاشیہ مشکواة صدایم مطبوعہ اصبح المطابع دہلی) یعنی NAWAKANGALOWANA کے لفظ میں جو الف لام ہے اس کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کے معنے یہ ہو سکتے ہیں کہ ایک ہزارہ برس کے بعد دو سو سال گزرنے پر نشانات (مہدی کا ظہور ہو گا اور یہی وقت مہدی کے ظاہر ہونے کا ہے۔امام الہند حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی " تقسیمات الہیہ جلد دوم ص ۱۳۳ پر تحریر فرماتے ہیں:۔معلمين بلا جل جلاله أن القيمة قد العربتُ والفهيقي تنا المريح۔یعنی میرے رب جل جلالہ نے مجھے سکھایا ہے کہ قیامت قریب ہے اور مہدی کا خروج ہونے کو ہے۔