حضرت نعمت اللہ ولیؒ اور اُن کا اصلی قصیدہ — Page 64
۶۴ ضمیر جہاں کے آئینے میں فتنوں کی گرد، گناہوں کا زنگ اور کینوں کے غبار دیکھ رہا ہوں۔ملکوں میں ظالموں کے ظلم کا اندھیرا انتہا کو پہنچ جائے گا۔درمیان میں اور اس کے کناروں میں بڑے بڑے فتنے اٹھیں گے۔اور جنگ ہوگی اور ظلم ہوگا۔گا۔ایسے انقلاب ظہور میں آئیں گے کہ خواجہ بندہ اور بندہ خواجہ ہو جائے گزشتہ سال میں شخص کا بوجھ دوسرے اٹھائے ہوئے تھے میں اس کے دل کو اس سال بو سمجھ کے نیچے دبا ہوا پاتا ہوں۔پہلی بادشاہی جاتی رہے گی اور نیا سکہ چلے گا، جو قدر و قیمت میں کم ہوگا۔ہفت اقلیم کے بادشاہوں میں سے ہر ایک کو میں ایک دوسرے سے الجھا ہوا دیکھ رہا ہوں۔میں چاند کا منہ سیاہ اور سورج کا دل زخمی دیکھ رہا ہوں۔یں دیکھ رہا ہوں کہ دُور کے ملکوں کے تاجر راستوں میں تنہا تھکتے ماند سے پڑے ہیں۔یں ہندوؤں کی حالت خراب پاتا ہوں اور ترک خاندانوں کا ظلم و ستم دیکھتا ہوں۔میں دیکھ رہا ہوں کہ قحط پڑیں گے اور باغات کو پھل نہیں