حضرت نعمت اللہ ولیؒ اور اُن کا اصلی قصیدہ — Page 63
۶۳ پر قوم کے معزز لوگ مجھے نمکین اور رسوا دکھائی دیتے ہیں۔میں دیکھتا ہوں کہ کارکنوں کو منصب پر سر فرانہ کرنے کے بعد انہیں معزول کیا جائے گا۔اور پھر وہ تنگ حالی اور آزردگی سے دوچار ہوں گے اور یہ دور ان پر دو مرتبہ آئے گا۔ترکوں اور تاجیکوں کو ایک دوسرے کیسا تھ ہر سر پر کا لہر دیکھ رہا ہوں۔میں ہر جگہ بڑوں اور چھوٹوں سے مکر وفریب اور حیلے دیکھتا ہوں۔نیکی کا بارغ اسیر گیا ہے اور میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ شریروں کے جمع ہونے کی جگہ ہے۔اگر آج تھوڑا سا امن کہیں ہے تو وہ مجھے پہاڑوں کی حدود میں نظر آتا ہے۔اگر چہ یہ تمام باتیں مجھے نظر آرہی ہیں پھر بھی کوئی فکر نہیں کیونکہ مجھے اس کے ساتھ عمنوں کو دور کرنے والی خوشی بھی دکھائی دیتی ہے۔اس سال اور چند اور سالوں کے بعد میں جہان کو محبوب کی طرح آراستہ دیکھتا ہوں۔میں ایک ہوشیار اور عقل مند بادشاہ کو باوقار حاکم دیکھ رہا ہوں۔کہاوتیں کچھ اور کہ رہی ہیں۔ایسا لگتا ہے جیسے یہ سب ہمیں بیداری میں نہیں دیکھ رہا۔بارہ سو سال کے گزرتے ہی عجیب عجیب کام مجھ کو نظر آتے ہیں۔