حضرت نعمت اللہ ولیؒ اور اُن کا اصلی قصیدہ — Page 14
۱۴ اور اصل مصرعہ کے الفاظ کو "غ رس چون گزشت از سال " میں بدلنے کا پس پردہ مطلب کیا تھا ؟ نعمت اللہ ولی کے نام پر ایک جدید قصیدہ کی تصنیف حضرت لعنت اللہ ولی کے اس شہرہ آفاق الہامی قصیدہ کی ہندوستان اور ایمان ہر جگہ دھوم بھی۔قصیدہ میں واضح پیش گوئی کی گئی تھی کہ ۱۲۰۰ ھ کے بعد عجیب و غریب کام ظہور میں آئیں گے۔چنانچہ یہ حقیقت ہے کہ واقعی (۱۷۸۶-۸۷ء) کے بعد برصغیر میں جلد جلد سیاسی ، تمدنی اور اخلاقی تغیرات وقوع پذیر ہونے لگے انگلستان جسکے ہاتھ سے ۱۷۸۳ء میں امریکہ نکل چکا تھا نئے مقبوضات کی تلاش میں سرگردان تھا اور اسنے جنوبی ہند کی پر شکوہ اسلامی ریاست رمیوں کے ہتھیانے کی کوششیں پہلے سے تیز تر کر دیں ہم مئی 199 کو والی سلطنت ۴۱۷۸۶-۸۷۱۲۰۰ ٩٩ سلطان المجاہدین حضرت ٹیپو سرنگا پٹم میں انگریزوں کا جو امردی سے مقابلہ کرتے شہید ہو گئے اس واقعہ ہائکہ سے پورے مسلم اقتدار کی بنیادیں ہل گئیں اور انگریزی اثر و نفر و طوفان کی طرح بڑھنے لگا۔اسی دوران میں حضرت سید احمد بریلوی کی تحریک جہاد بلند ہوئی جو مئی ۱۸۳۱ء میں آپ کی شہادت کیساتھ ختم ہو گئی لیکن بعض ہندوستانی مسلمانوں نے جو حضرت سید صاحب سے غایت درجہ عقیدت رکھتے تھے۔انکی غیبوبت اور آمد ثانی کی خبر بھی مشہور کر دی اور عوامی حوصلوں کو بلند کرنے اور زخم رسیدہ دلوں کی ڈھارس بندھانے کے لئے نعمت اللہ ولی ہی کے نام پر ایک جدید قصید و بھی وضع کر لیا۔اس قصیدہ کے کل ۳۵/ اشعار تھے۔