حضرت نعمت اللہ ولیؒ اور اُن کا اصلی قصیدہ — Page 13
پر وفیسر براؤن نے نہایت دیانت داری سے یہ اعتراف بھی کیا تھا کہ ان کے پاس شاہ نعمت اللہ کہ مانی نہ کے مکمل دیوان کا ایک نسخہ موجود ہے ، جو ۲۷۶ مورد مطابق ۱۸۶۰ء کا ہے اور طہران سے چھپا ہے میں میں یہ قصید" بالکل مفقود ہے۔اُن کے الفاظ یہ ہیں۔THE POEM IS NOT TO BE LithographeD EDITION FOUND AT ALL IN THE یعنی اس نظم کا لیمو ڈیشن میں قطعاً کوئی وجود ہی نہیں ہے۔اصلی قصیدہ میں رد و بدل کا پس منتظر پروفیسر براؤن " تاریخ ادبیات ایمان TRARY HISTORY) OF PERSIA حصہ سوم صفحه ۴۳۶۵ پر لکھتے ہیں کہ جب میں کرمان میں محقا تو بابی فرقہ کے لوگ مجھے بتایا کرتے تھے کہ محمد علی باب کے ظہور کی تاریخ ۲۱۲۶۰ مطابق ۱۸۴۴ء بطور پیش گوئی اسی "مے بینیم " کے قصیده میں بتائی گئی ہے۔یہ بات بڑی معنی خیز ہے جس سے یہ کھوج لگانے اور یہ معمہ حل کرنے میں مھاری مدد مل سکتی ہے کہ نعمت اللہ ولی کا قصید" شاہ نعمت الله کرمانی کی طرف منسوب کرنے کی سازش کس نے کی اور کیوں قصیدہ میں ” احمد کی بجائے "محمد" کا لفظ لکھ دیا گیا؟ اور اس میں مندرج ۱۲۰۰ کے اعداد کو ۱۲۶۰ کس لئے ظاہر کیا جانے لگا ہے له : کتاب مذکور جلد نمبر ۳ ، صفحه ۳۶۸ ، طبع سوم زبیر حالات نعمت الله کرمانی در