حضرت نعمت اللہ ولیؒ اور اُن کا اصلی قصیدہ — Page 10
١٠ تفلیسی دوراں " قرار دیا گیا ہے۔یہ امر بھی حدیث نبوی سے زبر دست تطابق رکھتا ہے۔چنانچہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فیصلہ کن فرمان ہے 2 ابن ابن ماجه جلد مصری یعنی مہدی موعود عیسی بن مریم کے سوا کوئی نہیں۔نیز ارشاد فتاريخ فرمایا- يُوشِكُ مَنْ عَاشَ مِنْكُمُ اَنْ تَلْقَى عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَرَ مَا مَا رمسند احمد بن حنبل جلد نمبر ۲ صفحہ ۱ اسم مصری ، یعنی قریب ہے کہ تم میں سے جو زندہ رہے گا وہ عیسی ابن مریم سے ملاقات کرے گا۔در آنحالیکہ 408 وہ امام مہدی بھی ہو گا۔قصیدہ کے مِن جانب اللہ ہونے پر ایک زندہ برہان یہ بھی ہے کہ اس میں چاند سورج گرہن کے اُس آفاقی نشان کی طرف بھی اشارہ موجود ہے جو ظہور میسیح اور مہدی کے ساتھ ازل سے وابستہ ہے۔و ملاحظہ ہو روایت کے لئے دار قطنی جلد نمبر صفحہ نمبر ۱۸۸ - بروایت حضرت امام باقر علیہ السلام) الاربعین فی احوال المد تین ہمیں تھیدا و صاحب قصید کا تعات كتاب الأمر بعين في أحوال المهدِيِّين" میں اس قصيدة ین کے اندراج کے بعد لکھا ہے۔" نعمت اللہ ولی که مرد صاحب باطن و از اولیاء کامل در سهندوستان مشہور اند و وطن اوشان در اطراف دہلی است زمانه شال پانصد و شصت