اشکوں کے چراغ — Page 52
52 52 روح کے جھروکوں سے اذنِ خود نمائی دے مجھ کو بھی تماشا کر، آپ بھی دکھائی دے اشک ہوں تو گرتے ہی ٹوٹ کر بکھر جاؤں شور میرے گرنے کا دُور تک سنائی دے تو نے درد دل دے کر میری سرفرازی کی تو ہی درد کے داتا! درد سے رہائی دے لخت لخت ہو کر میں منتشر نہ ہو جاؤں ایک ذات کے مالک ! ذات کی اکائی دے پور پور تنہائی ، انگ انگ سٹاٹا جس طرف نظر اٹھے فاصلہ دکھائی دے بولنے کی ہمت دے بے صدا مکانوں کو اب تو بے زبانوں کو اذن لب کشائی دے یا نه کھٹکھٹانے دے اور کوئی دروازہ یا نہ ہم فقیروں کو کاسہ گدائی دے اپنی بے نگاہی پر عرق عرق ہوں مضطر ! روح بھی ہے شرمندہ، جسم بھی دہائی دے