اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 51 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 51

51 مان آدھی رات کے آنسو! ڈھل ڈھل، میری تقدیر بدل کھل کے برس اے دل بادل ! ڈھل جانے دے نین کنول سوہنا، سچا اور شیتل آنسو ہے یا گنگا جل عمر کے سورج ! ہولی چل ڈھلتے ڈھلتے ڈھلتے ڈھل حسن ازل! لہرا آنچل گیسوئے جاناں ! پنکھا جھل ہٹ جا میرے رستے سے ٹل تقدیر مبرم! ٹل انگارے بن جائیں پھول جلنا ہے تو اتنا جل ان کی ضد بھی پکی ہے فیصلہ میرا بھی ہے اٹل جاگ اٹھے ہیں کشمیری جلنے لاگا حضرت بل چشم زدن میں راکھ ہوئے کیسے کیسے خواب اچھے پھلے انسانوں کے ہوش حواس ہوئے مختل گلیوں میں ایسے میں گھر سے نہ نکل بپا ہے ہے لب سی لے اور اشک نگل ان ہونی بھی ہو کے رہے گی آج یا کل سٹاٹا لگتا کہتا فیض ہے جاناں کا ورنہ کیا مضطر، کیا اس کی غزل محل (۱۱؍ دسمبر ۱۹۹۷ء)