اشکوں کے چراغ — Page 28
28 مان اتنی مجبوریوں کے موسم میں جشن برپا ہے دیدہ نم میں منسلک بھی ہیں رشتہ غم میں فاصلے بھی ہیں کس قدر ہم میں آسمان اور زمین کا ہے فرق درد میں اور درد پیہم میں ہجر کی شب ہی وصل کی شب ہے یعنی رمضان ہے محرم میں ایک ترتیب ہے پس پرده پیچ در پیچ زلف برہم میں رنگ و بو اور دل کشی کے سوا پھول کا خون بھی ہے شبنم میں دمِ عیسی ہے معجزہ کس کا کس کی پاکیزگی ہے مریم میں بھول جاؤں میں راستہ اے کاش! زلف جاناں کے بیچ اور خم میں زخم بھرنے لگے ہیں، یاروں نے کچھ ملا نہ دیا ہو مرہم میں ہو گیا کون زندہ جاوید خون کس کا ہے ساغرِ جم میں جس سے پوچھو وہی فرشتہ ہے کیا کوئی آدمی نہیں ہم میں! میرے مالک ! کوئی بشارت دے دل کی تبدیلیوں کے موسم میں یہ رہ مستقیم ہے مضطر! دائرہ ہے جو زلف کے خم میں