اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 594 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 594

594 حادثہ اندر ہی اندر ہو گیا وہ ہنسا اور ہنس کے پتھر ہو گیا بولنا بھی تھا بہت مشکل مگر اب تو چپ رہنا بھی دوبھر ہو گیا ریزہ ریزہ ہو گئی تصویر بھی آئنہ ناراض مل کر ہو گیا ہم ہوئے بدنام اگر اس کے لیے تذکرہ اس کا بھی گھر گھر ہو گیا کی دیوار تو تھی ہی خلاف ماری اخلاقی سایہ بھی اب حملہ آور ہو گیا دل پگھل کر بہہ گئے فرقت کی شب آنکھ کا صحرا سمندر ہو گیا اس قدر اس نے ستایا خلق کو سب کو اس کا نام ازبر ہو گیا