اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 14 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 14

14 وہ بے لحاظ بھی کہتا کبھی خدا لگتی اسے بھی زخم کوئی مستعار دینا تھا وہ برگزیدہ شجر لڑ رہا تھا موسم سے کہ پھولنا تھا اسے برگ و بار دینا تھا ہمیں بھی عہد کے انجام سے تھی دلچپسی کہ ہم فقیروں کا اس نے ادھار دینا تھا اٹھائے پھرتے ہو مضطر ! اجاڑ گلیوں میں یہ سر کا بوجھ تو سر سے اُتار دینا تھا۔۔۔حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے از راہ شفقت اس کی اصلاح یوں فرمائی۔یہ سر تھا بوجھ تو یہ بوجھ اتار دینا تھا