اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 13 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 13

13 صلہ کوئی تو سر اوج دار دینا تھا نہیں تھا پھول تو پتھر ہی مار دینا تھا حریف دار بھی پروردگار! دینا تھا نہ دیا تھا غم تو کوئی غمگسار دینا تھا وہ زمین تھی جو آسماں سے ے اتری تھی وہ حوالہ تھا جو بار بار دینا تھا وہ اک حسین تھا اس عہد کے حسینوں میں اسے کسی نے تو کافر قرار دینا تھا میں اپنی تنگی داماں کا عذر کیا کرتا وہ دے رہا تھا، اُسے بے شمار دینا تھا تم اپنے آپ سے ملتے اگر اکیلے تھے کڑا تھا وقت تو ہنس کر گزار دینا تھا نہیں بتانا تھا لوگوں کو اپنا نام پتا سر صلیب کوئی اشتہار دینا تھا