اشکوں کے چراغ — Page 544
544 خواہشوں نے گھڑی ہیں تصویریں ہر قدم پر کھڑی ہیں تصویریں میرے شانوں پہ چڑھ کے مل ان سے تیرے قد سے بڑی ہیں تصویریں غم جاناں ہے یا غم دنیا یا گھڑی دو گھڑی ہیں تصویریں بیچ میں ہے مزار ماضی کا دائیں بائیں پڑی ہیں تصویریں ہر کسی کو نظر نہیں آتیں سامنے جو کھڑی ہیں تصویریں حادثوں کی زباں سمجھتی ہیں چوک میں جو گڑی ہیں تصویریں اور بھی لوگ تھے زمانے میں کیوں ہمی سے لڑی ہیں تصویریں بت شکن بھی ہے، بت فروش بھی ہے دل کی مضطر! بڑی ہیں تصویریں