اشکوں کے چراغ — Page 543
543 سنائی ہے یوں پائل کی آواز کہ جیسے ہجر کی شب دل کی آواز آزاد عدد ہے، مانے نہ مانے مری آواز محفل کی آواز ہے صداقت کے سمندر منتظر ہیں کبھی تو آئے گی ساحل کی آواز گر کر بہ گیا خونِ شہیداں فقط آواز قاتل کی آواز ہے میں ضامن ہوں طلوع صبح نو کا مری آواز مستقبل کی آواز میک اٹھیں گے پھر آموں کے جنگل سنائی دے گی پھر کوئل کی آواز کدھر جاؤں، میں خود حیراں ہوں مضطر ! ادھر دل کی، اُدھر محفل کی آواز