اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 528 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 528

528 جہاں عشق نے برچھیاں ماریاں دھری رہ گئیں شوخیاں ساریاں زمانے میں ضرب المثل بن گئیں مری ہستیاں ، اس کی ستاریاں بس اک لمس سے سر بسر مٹ گئیں سبھی دوریاں، ساری بیماریاں مرے چارہ گر، میرے غم خوار کو پسند آ گئیں میری لاچاریاں لہو رنگ ہے سرزمین وفا یہ کس شوخ نے کی ہیں گل کاریاں وہ خود آ گیا مسکراتا ہوا جسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے ہاریاں تری پارسائی مبارک تجھے مجھے بکس ہیں میری خطا کاریاں مبارک تمھیں عقل کی عزتیں مجھے مل گئیں عشق کی خواریاں مری سادگی میرے کام آ گئی خجل ہو گئیں تیری عیاریاں حقیروں کو عزت پہ عزت ملی چھنیں سرفرازوں سے سرداریاں کدھر کے ارادے ہیں مضطر ! کہو مری جاں! کہاں کی ہیں تیاریاں؟