اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 527 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 527

527 غم ہائے روزگار کی نظروں نے کھا لیاں آنکھوں کی مستیاں، ترے ہونٹوں کی لالیاں وہ : گالیاں جو رات عدد نے نکالیاں کیا جانیے کہ کس لیے ہنس ہنس کے کھا لیاں اپنے تو اپنے غیر بھی کب رات سو سکے رو رو کے ہم نے بستیاں سر پر اُٹھا لیاں اوج فراز دار دییک جلائیے شمعیں سر مژہ تو بہت جگمگا لیاں مٹی میں مل کے زندہ جاوید ہو گئیں وہ صورتیں جو اشک کے شیشوں میں ڈھالیاں اک شکل چاند سی ہمیں کل خواب میں ملی پوچھا جو ہم نے نام تو نظریں جھکا لیاں سائے سے پھر رہے ہیں، کوئی آدمی نہیں گلیاں پرائے شہر کی ہیں دیکھی بھالیاں دھونی رما کے بیٹھ گیا در یار کے مضطر کے کام آ گئیں بے اعتدالیاں