اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 523 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 523

523 سنا ہے اس کے غلام اس کے عہدِ الفت میں کرشمے آج بھی حسن ازل کے دیکھتے ہیں سنا ہے جب بھی وہ جھکتے ہیں اپنے رب کے حضور پکارتے ہی نہیں اُس کو بلکہ دیکھتے ہیں ق عقل کے اندھوں کا کچھ علاج نہیں ہے کہ اب ہلکے ہلکے دیکھتے ہیں سنا ہے مگر سنا ہے سنا ہے آج بھی ارضِ وطن کے فتوی فروش ضمیر صوت و صدا کو کچل کے دیکھتے ہیں نہ جانے کیوں انھیں منزل نظر نہیں آتی وہ راستہ کبھی رہبر بدل کے دیکھتے ہیں گلہ ہے کس لیے ملائے شہر کو مضطر! وفا کے پیر اگر پھول پھل کے دیکھتے ہیں