اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 522 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 522

522 سنا ہے اُس کے غلاموں کی بھی غلام ہے آگ یہ بات ہے تو چلو ہم بھی جل کے دیکھتے ہیں سنا ہے بھیگنے لگتی ہے جب شب فرقت تو اشک اشک ستارے پگھل کے دیکھتے ہیں سنا ہے دل کا بدلنا بہت ضروری ہے اگر یہ بات ہے دل کو بدل کے دیکھتے ہیں سنا ہے سوچیں اگر اس کو باوضو ہو کر تو اختلاف کے پتھر پگھل کے دیکھتے ہیں سنا ہے اُس کی فتوحات کا شمار نہیں یہ اور بات ہے اغیار جل کے دیکھتے ہیں سنا ہے دین ہیں اک کالی کملی والے کی یہ معجزات جو فکر و عمل کے دیکھتے ہیں سنا ہے عاشق صادق وہ اک حسیں کا ہے کہ اُس کی نثر میں موسم غزل کے دیکھتے ہیں سنا ہے زندوں میں اونچا ہے سب سے قامت میں کیوں پست قد اسے ناحق اچھل کے دیکھتے ہیں سنا ہے جب وہ ”منالی“ کی سیر کو جائے تو کوہسار کے چشمے اہل کے دیکھتے ہیں