اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 472 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 472

472 میں ترے عہد میں اگر ہوتا تیرا در ہوتا ، میرا سر ہوتا اگر آواز کا بھی گھر ہوتا کوئی دیوار، کوئی در ہوتا تیرے پاؤں کی خاک بن جاتا میں اگر تیرا ہمسفر ہوتا فرط لذت سے گنگ ہو جاتا ذکر تیرا نہ مجھ سے کر ہوتا میری پہچان مجھ کو مل جاتی میں اگر اتنا معتبر ہوتا رات کٹتی ترے تصور میں دن تری یاد میں بسر ہوتا پوچھتے لوگ مجھ سے تیرا حال میں اگر تیرا نامہ بر ہوتا تکتا رہتا تجھے تحیر دار سے یار تک مسافر کا اک یہی کام عمر بھر ہوتا راستہ کتنا مختصر ہوتا زندگی چین سے گزر جاتی خوف ہوتا نہ کوئی ڈر ہوتا دیکھ لیتا اگر تجھے مضطر! اس کی آواز میں اثر ہوتا