اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 471 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 471

471 سُن ! محو گفتگو ہے یہ کون آسمان - سے پردے تمام اُٹھ رہے ہیں درمیان سے اتنے وثوق سے جسے جھٹلا رہے ہیں آپ اترا نہ ہو وہ چاند کہیں آسمان سے خلقت تمام چل رہی ہے اس کے ساتھ ساتھ مجبور گھر سے نکلا ہے اس آن بان سے وہ امتحاں کا دور تھا، آیا گزر گیا اب معذرت کیا کرو خالی مکان سے اس کی بلند شان کا کیا تذکرہ کروں بالا ہے جس کا مرتبہ وہم و گمان سے واپس اگر گیا بھی تو مشکل سے جائے گا ملا کا بھوت نکلا ہے جو مرتبان سے ہے ، آئنوں میں پہلی سی رونق نہ روشنی آنکھیں چرا کے لے گیا کوئی مکان سے اب اس سے کیا غرض کہ لگا یا خطا گیا جب تیر ہی نکل گیا مضطر ! کمان سے