اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 469 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 469

469 زخم بولے تو جیسے بھر سے گئے مسکرائے تو بن سنور سے گئے گھر کے اندر بھی دشت تھے آباد گھر میں آئے تو پھر نہ گھر سے گئے ان کو سچ بولنے کی عادت تھی آئنے آئنوں سے ڈر سے گئے آہٹوں کے اسیر سنائے کبھی ٹھہرے، کبھی گزر سے گئے آنسوؤں نے بھی ساتھ چھوڑ دیا یہ مسافر بھی اب سفر سے گئے یاد کی محفلیں بھی خواب ہوئیں خواب کے رنگ بھی بکھر سے گئے دوست بھی جا چکے رہا ہو کر اور دشمن بھی جیسے مر سے گئے اشک بر سے تو چاہتوں کے چناب لذت تشنگی سے بھر سے گئے ہم بھی کیا آئے محفل جاں میں بے خبر آئے بے خبر سے گئے تاب کب لا سکے اذیت کی آئینے ٹوٹ کر بکھر سے گئے گوئے الزام! تیری عمر دراز تجھ سے نکلے تو شہر بھر سے گئے رات جب بھیگنے لگی مضطر! چاند چہرے بھی کچھ نکھر سے گئے (۸/ جولائی، ۱۹۹۵ء)