اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 465 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 465

465 درود تیرے لیے ہے، سلام تیرا ہے خدا کے بعد مرے لب پہ نام تیرا ہے ترے مقام کی سرحد کو چھو سکا نہ کوئی کہ ہر مقام سے آگے مقام تیرا ہے ترا ہی نطق ہے مَا يَنْطِقُ کا آئینہ خدا کا ہے جو بظاہر کلام تیرا ہے ترے بغیر تو ملتا نہیں ہے مالک بھی کہ اس کی ذات کو بھی احترام تیرا ہے ترے جلال پہ حاوی جمال ہے تیرا تمام عفو ہے جو انتقام تیرا ہے اصفر رہے نہ اسود و ابیض، نہ احمر و یہ کام تو نے کیا ہے، یہ کام تیرا ہے چھلک رہا ہے جو دن رات جام رحمت کا مرے کریم یہ کاس الکرام تیرا ہے