اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 2 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 2

2 اس کے سارے انقلاب جذر سارے ، سارے مد حساب اس کے حساب ہر عدد اس کا عدد وقت ہے اس کا غلام ہر ازل اور ہر ابد عشق اس کا معجزہ عقل اس کے خال و خد ہے خبیر وہ اور میں ہوں ناداں ، نابلد اے مری جاں کی پسند! الغياث الْمَدَدُ !