اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 420 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 420

420 اپنی نظر سے بھی کبھی اپنی نظر ملا دعوی ہے عشق کا تو کوئی امتحان دے لفظوں کے لب پہ حرف تمنا نہ آئے گا اے عہد کے کلیم! انھیں ترجمان دے انکار کے بھنور میں ہے کشتی پھنسی ہوئی باد مراد عشق! کوئی بادبان دے یہ عہد نو جو پیدا ہوا ہے ابھی ابھی اٹھ اور اس کے کان میں مضطر ! اذان دے