اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 419 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 419

419 چادر سروں پہ کوئی تو اے آسمان! دے سایہ اگر نہیں ہے تو سورج ہی تان دے بیدار پانیوں کے کنارے مکان دے داتا! نئی زمین، نیا آسمان دے صدیوں کو تو زبان دی ، لہجہ عطا کیا لمحہ بھی بولتا ہے، اسے بھی زبان دے طے ہوسکیں گے ہم سے نہ فرقت کے فاصلے دینا ہے کچھ تو قربتوں کے درمیان دے سورج بکھیر دے مرے اندر صفات کے اس دھند میں بھی روشنی کے سائبان دے کیوں بار غم اُٹھا لیا تھا تو نے عشق کا اس کا جواب بھی اے دلِ ناتوان! دے ایسا نہ ہو کہ پھر کہیں ہو جائیں قلعہ بند ہم لامکانیوں کو نہ کوئی مکان دے